Just Talks's Podcast

مارچ ١٩٠٧ از علامہ اقبال | علامہ اقبال کا مغرب کو پیغام

37 min · 20. juni 2025
episode مارچ ١٩٠٧ از علامہ اقبال | علامہ اقبال کا مغرب کو پیغام cover

Beskrivelse

نظم "مارچ 1907" علامہ اقبال کی ایک انقلابی اور بصیرت افروز نظم ہے جس میں انہوں نے مغربی استعمار، قوم پرستی، اور مادہ پرستی کے خلاف ایک گہرا فکری ردعمل پیش کیا ہے۔ اس نظم میں اقبال نے پیش گوئی کی کہ یورپ کی ظاہری چمک دمک، ترقی اور طاقت ایک دن خاک میں مل جائے گی، اور دنیا میں ایک روحانی انقلاب اُبھرے گا۔ وہ اس نظم میں "دیدارِ یار" کو عام ہونے کی نوید دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ راز جو اب تک خاموشی کے پردے میں تھا، اب ظاہر ہو جائے گا۔ اقبال نے اس نظم کے ذریعے مسلمانوں کو ان کی اصل پہچان، روحانی طاقت اور عالمی کردار کی یاد دہانی کرائی ہے۔ "مارچ 1907" صرف ایک نظم نہیں، بلکہ ایک بیداری کا پیغام ہے جو آج بھی اپنی معنویت رکھتا ہے۔

Kommentarer

0

Vær den første til at kommentere

Tilmeld dig nu og bliv en del af Just Talks's Podcast-fællesskabet!

Kom i gang

2 måneder kun 19 kr.

Derefter 99 kr. / måned · Opsig når som helst.

  • Podcasts kun på Podimo
  • 20 lydbogstimer pr. måned
  • Gratis podcasts

Alle episoder

22 episoder

episode حضورِ رسالت مآبؐ میں! از علامہ اقبال cover

حضورِ رسالت مآبؐ میں! از علامہ اقبال

علامہ اقبال کی نظم “حضورِ رسالت مآبؐ میں” طرابلس کی جنگ کے پس منظر میں لکھی گئی وہ صدائے دل ہے جس میں امتِ مسلمہ کے زخم، بے بسی اور عزتِ نفس کی ٹوٹی ہوئی حالت صاف جھلکتی ہے۔ اقبالؒ اس نظم میں اس سوز کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں کہ ایک طرف مسلمان دشمن کے ظلم و ستم میں پس رہے ہیں اور دوسری طرف امت کے دلوں سے ایمان کی حرارت اور عمل کی قوت کمزور ہو چکی ہے۔ نظم کا مرکزی احساس یہی ہے کہ طرابلس کے مجاہدین کا خون ہمیں جگانے آیا ہے، اور اب امت کو پھر اسی عشقِ رسول ﷺ، جرأتِ ایمانی اور روحِ محمدیؐ کی طرف لوٹنا ہوگا جو کبھی مسلمانوں کی پہچان، قوت اور قیادت تھی۔

21. jan. 202618 min
episode نصیحت از علامہ اقبال | اقبال کی خود کلامی cover

نصیحت از علامہ اقبال | اقبال کی خود کلامی

علامہ اقبال کی نظم "نصیحت" ایک طنزیہ مگر فکری آئینہ ہے جو موجودہ دور کی قیادت، مذہب، صحافت اور ادبی دنیا کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کرتی ہے۔ اس نظم میں اقبال نہایت فصاحت سے ان افراد پر تنقید کرتے ہیں جو دین، دانش اور قیادت کے دعوے تو کرتے ہیں، مگر اندر سے اقتدار، شہرت اور مفاد پرستی کے اسیر ہوتے ہیں۔ اقبال ہر شعر میں معاشرتی، فکری اور روحانی زوال کی کسی نہ کسی صورت کو نمایاں کرتے ہیں — کبھی میڈیا کی غلامی، کبھی رسمی عبادت، کبھی دین کے پردے میں دنیا کمانے کا فریب، اور کبھی علم و ادب کو سچ کے بجائے مفاد کے لیے استعمال کرنا۔ نظم کا اختتامی فارسی شعر پوری نظم کو ایک روحانی اونچائی پر پہنچاتا ہے: "اگرچہ موت مقدر ہے، مگر جب تک زندہ ہو، اپنی آواز بلند کرو۔" گویا "نصیحت" صرف تنقید نہیں، بلکہ دعوتِ بیداری اور تجدیدِ کردار ہے۔

11. juli 202530 min
episode گدائی از علامہ اقبال | اصل فقیر کون ؟ cover

گدائی از علامہ اقبال | اصل فقیر کون ؟

علامہ اقبال کی نظم "گدائی" ایک انقلابی اور فکری نظم ہے جو ظاہری حکومت، بادشاہی اور امارت کے پسِ پردہ چھپی ہوئی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔ اس نظم میں اقبال نے حکمرانوں کی شان و شوکت کو ایک فریب قرار دیا ہے، جو درحقیقت عوام کی محنت، قربانی اور خون سے تعمیر ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو شخص دوسروں پر انحصار کرتا ہے، چاہے وہ صدقہ مانگے یا ٹیکس، وہ دراصل ایک فقیر ہے — اور یہی حال حکمرانوں کا بھی ہے۔ اقبال کی یہ نظم صرف سماجی تنقید نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے کہ عزت، اختیار اور عظمت کا اصل معیار خودی، خودداری اور خدمتِ خلق ہے، نہ کہ ظاہری تاج و تخت۔

30. juni 202517 min
episode مارچ ١٩٠٧ از علامہ اقبال | علامہ اقبال کا مغرب کو پیغام cover

مارچ ١٩٠٧ از علامہ اقبال | علامہ اقبال کا مغرب کو پیغام

نظم "مارچ 1907" علامہ اقبال کی ایک انقلابی اور بصیرت افروز نظم ہے جس میں انہوں نے مغربی استعمار، قوم پرستی، اور مادہ پرستی کے خلاف ایک گہرا فکری ردعمل پیش کیا ہے۔ اس نظم میں اقبال نے پیش گوئی کی کہ یورپ کی ظاہری چمک دمک، ترقی اور طاقت ایک دن خاک میں مل جائے گی، اور دنیا میں ایک روحانی انقلاب اُبھرے گا۔ وہ اس نظم میں "دیدارِ یار" کو عام ہونے کی نوید دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ راز جو اب تک خاموشی کے پردے میں تھا، اب ظاہر ہو جائے گا۔ اقبال نے اس نظم کے ذریعے مسلمانوں کو ان کی اصل پہچان، روحانی طاقت اور عالمی کردار کی یاد دہانی کرائی ہے۔ "مارچ 1907" صرف ایک نظم نہیں، بلکہ ایک بیداری کا پیغام ہے جو آج بھی اپنی معنویت رکھتا ہے۔

20. juni 202537 min